بنگلورو7؍جولائی(ایس او نیوز) ریاستی لیجسلیٹیو کونسل کی کارروائیوں کو عبوری چیرمین کی نگرانی میں ہی چلائے جانے پر آج ایوان میں زور دار بحث چھڑ گئی اور بی جے پی نے اس صورتحال کو آئینی بحران سے تعبیر کیا ، جس کی وجہ سے ایوا ن میں شور وغل مچ گیا۔
اپوزیشن اراکین نے ایوان کی کارروائیوں کو مسلسل عبوری چیرمین بسوراج ہوراٹی کی صدارت میں چلائے جانے کے جواز پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہاکہ اگر اس عارضی انتظام کو تسلسل بخش دیا جائے تو یہ کہاں تک جائزہے۔ فوری طور پر اس بحران کی یکسوئی کے لئے کونسل کے کل وقتی چیرمین کا انتخاب ہونا چاہئے۔
اس پر کانگریس اور جنتادل (ایس) اراکین نے سخت اعتراض کیا اور کہاکہ فی الوقت ایوان کے چیرمین احسن طریقے سے کارروائی چلارہے ہیں اور اس کی گنجائش آئین کی دفعہ184کے تحت موجود ہے۔اس بات کو لے کر حکمران اور اپوزیشن کے درمیان نوک جھونک بھی ہوئی۔آج جیسے ہی کارروائی شروع ہوئی بی جے پی کے آئینور منجوناتھ اور کے بی شانپا نے عبوری چیرمین کی صدارت میں کارروائیوں کے جواز پر سوالیہ نشان لگایا اور اس پر بحث کرنی چاہی۔ چیرمین نے اس بحث کی اجازت بھی دے دی ۔بحث کے دوران بسوراج ہوراٹی نے کہاکہ ایوان کے اراکین میں اگر ان کی صدارت میں کارروائیوں کے چلنے پر تحفظات ہیں تو وہ چاہیں گے کہ اس کی وضاحت کھل کر کی جائے۔ اگر ایوان کی کارروائیوں کی گنجائش نہیں ہے تو پھر عارضی انتظام ختم کرکے متبادل انتظام کیا جانا چاہئے۔
ہوراٹی نے کہاکہ کسی بھی حال میں وہ ایوان کی کارروائیوں کے وقار کو مجروح ہونے نہیں دیں گے۔ اس مرحلے میں وزیر قانون وپارلیمانی امور کرشنا بائرے گوڈا نے کہاکہ ایوان میں اس بحث کو خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ نئے چیرمین کے انتخاب کے سلسلے میں ریاستی کابینہ میں بحث چل رہی ہے ۔چیرمین کے انتخاب کی تاریخ طے کرنے کا اختیار وزیراعلیٰ کو دیا گیا ہے۔عنقریب چیرمین کا انتخاب عمل میں آئے گا۔ دیگر اراکین نے وزیر موصوف کے اعلان پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے گزارش کی کہ جلد ازجلد چیرمین کا انتخاب بلاتاخیر کروایا جائے۔